ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب معاملہ؛ ایڈوکیٹ دیودت کامتھ پھر اُترے میدان میں؛ عدالت میں ہوئی دلچسپ بحث

کرناٹک حجاب معاملہ؛ ایڈوکیٹ دیودت کامتھ پھر اُترے میدان میں؛ عدالت میں ہوئی دلچسپ بحث

Thu, 24 Feb 2022 22:02:48    S.O. News Service

بھٹکل 24 فروری (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب معاملے کو لے کر شنوائی جاری ہے اور معاملہ کی کاروائی پھر کل یعنی جمعہ کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ کے دسویں دن آج جمعرات کو چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس زیب النساء محی الدین قآضی اور جسٹس کرشنا ایس ڈکشت کے سامنے پھر ایک بار عرضی گذاروں کے وکیل ایڈوکیٹ دیودت کامتھ اورایڈوکیٹ اے ایم دار نے حجابی طالبات کی پرزور وکالت کی۔ ایک طرف ایڈوکیٹ اے ایم دار نے اسلام میں حجاب پہننا لازمی قرار دیا اورکہا کہ امن عامہ کو محض ایک مسلمان لڑکی کے حجاب پہننے کی وجہ سے پریشان نہیں کیا جاسکتا، وہیں انہوں نےکہا کہ "یہ ہندو راشٹر یا اسلامی جمہوریہ نہیں ہے۔ یہ ایک جمہوری، خود مختاراور سیکولر ملک ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔" 

یاد رہے کہ گذشتہ تین دنوں تک سرکارکا موقف پیش کرنے والے ایڈوکیٹ جنرل، کالج ڈیولپمنٹ کونسل کی طرف سے سنئیر وکیل اور کالج پرنسپال و لیکچررس کی طرف سے الگ سے سنئیر وکیل نے حجاب کی مخالفت میں دلائل پیش کئے تھے، اور عدالت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ حجاب اسلام کا لازمی جُز نہیں ہے۔ آج اُن کا جواب دینے پھر ایک بارسپریم کورٹ کے سنئیر وکیل دیودت کامتھ میدان میں اُترے اور اپنے آپ کو ایک بلے باز کی طرح پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر دونوں طرف سے تیز گیند بازی کی گئی، جس میں چند گیندیں گُڈ لینگتھ تھی جس کا میں اچھی طرح سامنا کرسکتا ہوں، کچھ گیندیں اسٹمپ کے باہر جارہی تھی جسے وائیڈ کہنا چاہئے، جبکہ چند نو بال بھی پھینکے گئے جسے کالعدم قرار دیا گیا ان کی باتوں پرججس بھی کافی لطف اندوز ہوئے اور اس موقع پر جسٹس ڈکشت نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ آپ کو ہم اوپنر بلے باز سمجھتے ہیں۔ آج بینچ کے ججس اور ایڈوکیٹ کامتھ کے درمیان حجاب پر پابندی کو لے کر دلچسپ بحث ہوئی، ایک طرف ججس سوال پر سوال کررہے تھے تو دوسری طرف ایڈوکیٹ کامتھ بھی پُرزور انداز میں مکمل دلائل کے ساتھ جواب دے رہے تھے۔

حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے ایڈوکیٹ دیودت کامتھ نے قران کی آیتوں سمیت صحیح بخاری کی حدیثیں بھی دلائل کے طور پرپیش کیں اور اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حجاب اسلام کا ایک ضروری مذہبی عمل ہے۔ کامتھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاب ایک ضروری مذہبی عمل ہے۔ لیکن میں یہ بھی کہہ رہا ہوں کہ حجاب پرپابندی لگانے والا مینڈیٹ غیر قانونی ہے۔

کامتھ نے کہا کہ میری موکلہ گذشتہ دو سالوں سے کالج میں حجاب کے ساتھ اپنے کلاسس اٹینڈ کرتی رہی ہیں۔ میرا بنیادی چیلنج  گورنمیٹ آرڈر یعنی GO کو لے کر ہے۔ جہاں تک اس GO کا تعلق ہے میرا زیادہ تر کام بہت آسان ہو گیا ہے، کیونکہ GO کے تعلق سے سرکاری وکیل نے خود میرے دلائل کو90 فیصد تسلیم کر لیا ہے۔ کامتھ نے کہا کہ میں نے جی او کو منسوخ کرنے کی کوشش کی ہے اور درخواست گذاروں کو حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ مزید کہا کہ  ہم (کالج کی طالبات) کالج میں داخلہ کے بعد سے گورنمیٹ آرڈر آنے تک سر پر اسکارف پہن کرہی کالج میں حاضر ہوتی رہی ہیں۔  اورسرکاری وکیل نے اس تعلق سے کوئی جواب/تردید نہیں کی ہے۔ ایڈوکیٹ کامتھ نے سرکاری وکیل کی طرف سے ہی پیش کئے گئے دلائل کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے گورنمیٹ آرڈرGO پرہی سوالات کھڑے کردئے اور سرکار کے اس آرڈر کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔ کامتھ نے کہا کہ اگر GO جاتا ہے تو بنیادی حقوق کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سر پر اسکارف یا پگڑی پہن کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اسی GO کے نام پرتعلیم کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔

جب چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جس ادارے نے یونیفارم کا تعین کیا ہے اس کے اندر آپ حجاب پہننے پر اصرار کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ یہ آپ کا بنیادی حق ہے ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ کس حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ حجاب مذہبی عمل کا حصہ ہے، آپ اسے ثابت کیجئے۔ جواب دیتے ہوئے کامت نے کہا کہ میرا نقطہ نظر تھوڑا الگ ہے۔ حجاب پر اپنے اختیار کے بجائے، میں پوچھنا چاہوں گا کہ حجاب پر پابندی کہاں ہے کیونکہ آرٹیکل 25(2) بالکل واضح ہے کہ کس چیز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس کے مزید کریدنے پر کامتھ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، کیا ایجوکیشن ایکٹ کے تحت یونیفارم تجویز کرنے کا کوئی اصول ہے ؟ کیا سماجی اصلاح کا کوئی پیمانہ ہے؟ کامت نے کہا کہ ضروری مذہبی مشق (یعنی ERP) میرے بنیادی حق پر پابندیاں نہیں لگاسکتا۔ یہ ریاست کے اختیارات پر مذہبی مشق میں مداخلت کرنے پر پابندیاں لگاتا ہے۔ کامتھ نے یہ بھی بتایا کہ آرٹیکل 25(1) کے تحت حجاب پہننا میرا حق ہے جسے ممنوع قراردیا گیا ہے۔ اگر اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے توممنوع کرنے کا قانون کہاں پر ہے؟ 

کامتھ نے زورداربحث کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے یونیفارم کا تعین کیا ہے وہاں حجاب پر پابندی ہی نہیں ہے تو حجاب پہن کر کمرے میں جانے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ کامتھ نے پھر اپنی بات دہرائی کہ اگر گورنمیٹ آرڈر(جی او)ٰ چلا جائے تو دوسرا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف اپنی بات کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کامتھ نے سپریم کورٹ میں پیش کردہ بیجو ایمینوئل کیس کی مثال پیش کی اور کہا کہ سپریم کورٹ نے طلباء سے سوال نہیں پوچھا کہ مجھے اپنا حق دکھائیں۔ سپریم کورٹ نے پوچھا کہ پابندی کہاں ہے؟ اس لئے میرا بھی یہی سوال ہے کہ یونیفارم میں حجاب پر پابندی کہاں عائد کی گئی ہے ؟ کامت نے دلیل دی کہ "ضروری مذہبی مشق (ERP) یعنی Essential Religious Practice آئین کے آرٹیکل 25 (2) کے تحت ریاست کے حق پر پابندی عائد کرتا ہے۔ مزید کہا کہ اگر ریاستی حکومت مذہبی عمل میں مداخلت کرتی ہے تو آئین کا یہ آرٹیکل ریاستی حکومت کے اختیارپرپابندی عائد کرتا ہے، یعنی اس ایکٹ کے تحت ریاستی حکومت کسی کے مذہبی عمل میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

کامت نے دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں آج جوکچھ پیش کیا گیا ہے اور جسے آج زندہ کیا گیا ہے وہ بالکل وہی ہے جسے ہمارے آئین سازوں نے مسترد کر دیا تھا۔ کامت نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی کے مباحثوں کے دوران ایک ترمیم پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مذہب کی کوئی ظاہری نشانیاں عوام میں ظاہر نہیں کی جانی چاہئیں۔ لیکن اسے آئین بنانے والوں نے واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ کامتھ نے کہا کہ ریاستی حکومت اب اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جو جائز نہیں ہے۔ کامتھ نے آج پھر ایک بار دلائل پیش کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی جو ایم ایل اے کمیٹی ہے، کے پاس یونیفارم تجویز کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ کامتھ نے کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی میں ایم ایل اے کی ماتحتی پر بھی دوبارہ سوال اُٹھایا اور کہا کہ ایک ایم ایل اے ریاستی حکومت کے ماتحت کا کوئی آفسر نہیں ہے۔ اور اس کا احاطہ اشونی کمار کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کامتھ نے ڈاکٹر امبیڈکرکی بات کا حوالہ دے کر اپنی بات ختم کی کہ آئین کتنا ہی اچھا ہو، اگر آئین کو نافذ کرنے والے برے ہوں تو نتیجہ بھی برا ہی ظاہر ہوگا۔ اسی طرح اب ریاستی حکومت  نے جس طرح آئین کو نافذ کیا ہے اُسے دیکھ کرآئین ہی برا لگتا ہے۔

دس روز مکمل ہونے کے باوجود ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ حجاب کو لے کر کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی، اس بات کو محسوس کرتے ہوئے آج چیف جسٹس نے عدالتی کاروائی کو پانچ بجے بند کرنے کے بجائے مزید 15 زائد منٹس تک چلنے دیا اور کامتھ کے دلائل ختم ہونے کے بعد ہی کاروائی روکی۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ جلد سے جلد اپنا فیصلہ سنانا چاہتی ہے۔ عدالت کی اگلی کاروائی کل جمعہ کو دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوگی۔


Share: